Wednesday, 31 December 2014

Kohsar in 2014

A year in preview

written & analysed by
Journalist, Historian, Anthropologist & Blogger
Special thanks to
Cell Phone # 0331-5446020 , E Mail:

Every moment that has left us alone, called PAST, will never come back again in our life. This relates to philosophy of time and we all of us know very well that time is classified in to three categories as Past, Present and Future. Time always accrued in space and we called it “TIME AND SPACE” or کون و مکاں. Time is only a solo creation by Almighty Allah Tbarik wa Ta’ala that is immortal despite of it changing nature in every moment. “Stanford Encyclopedia of Philosophy” narrates topology of time in these words; “Questions about the topology of time appear to be closely connected to the issue of Platonism versus Reductionism with Respect to Time. For if Reductionism is true, then it seems likely that time's topological features will depend on contingent facts about the relations among things and events in the world, whereas if Platonism is true, so that time exists independently of whatever is in time, then time will presumably have its topological properties as a matter of necessity. But even if we assume that Platonism is true, it's not clear just what topological properties should be attributed to time.”
When we discussed about daily news and tidings of Kohsar of Circle Bakote and Murree Hill, indeed we discussed our own Past, Present and Future. Year 2014 has left many agonies, pleasures and many more of the nature of our society as Kohsarians. 2014 is our living history in which we all are involved in our capacity and we wrote this with our blood of heart. It is our past and now we are living in our present with new resolution of better Present and Future. An English poetess Elizabeth Sewell of England (1815-1906) wrote a very beautiful poem as her feelings for New Year reception:-
Here comes the New Year
And it’s time to make resolutions
For I promise to be sincere
And bring in me a revolution
In class I'll talk less
In studies I'll surely progress
All my lies I'll confess
I'll go to play with egress
To my friends I'll be kind
Have my character refined
To a helper of mankind
With a sound mind
I'll follow my teacher's advice
Regularly I'll exercise
My mother I'll idolize
Beyond doubt I'll civilize
These are my resolutions
To bring in me an evolution
To follow them I'll try my best
Until then I'll not rest
Now we are in Kohsar of Circle Bakote, Murree Hills and Galies (گلیات) and the news and events are our own. We start this blog from POLITICS, because it is profession of elite and ruling class. Politics means a consciousness about event as well as current and near past living history but it is a profession in Pakistan for those who have a countless wealth and their business is politics. Politics in Pakistan have no criteria of education, expertise or experience of how to serve and deliver aura to people by the people. We believed in investment of politics that double and triple after election and in power. We can say at this moment that it is POLITICS OF PAKISTANI STYLE. My the best wishers SMS me many more messages on new Christian year first night and I selected one message from my cell phone inbox for consciousness of your inner enthusiasm. Feel and understand this Urdu poem in deep heart.
نتیجہ پھر وہی ہو گا
سنا ہے سال بدلتے ہیں
پرندے پھر وہی ہوں گے
شکاری جال بدلے گا
نتیجہ پھر وہی ہو گا
بدلتے ہو تو دن بدلو
بدلتے کیوں ہو ہندسوں کو ؟
مہینے پھر وہی ہوں گے
سنا ہے سال بدلے گا
نتیجہ پھر وہی ہو گا
وہی حاکم، وہی غربت
وہی قاتل، وہی غاصب
بتائو کتنے سالوں میں
ہمارا حال بدلےگا
نتیجہ پھر وہی ہو گا
روزنامہ آج پشاور، یکم جنوری 2015
سولہ اپریل۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فخر کوہسار سردار مہتاب احمد خان نے خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے منصب یعنی گورنر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا، وہ اس سے پہلے اسی صوبے کے وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں۔
>Read More
سیاسیات کوہسار
حلقہ پی کے پنتالیس کے ضمنی الیکشن میں رکھنےوالے گورنر خیبر پختونخو سردار مہتاب احمد خان کے بھائی سردار فرید خان نے چھ ہزار ووٹوں کی برتری سے ایم پی اے کا الیکشن جیت لیا، ان کے مقابلہ میں تحریک انصاف کے امیدوار علی اصغر خان تھے اور اس الیکشن مہم میں خود عمران خان نے بھی حصہ لیا تھا۔ اس الیکشن میں تحریک انصاف نے 
گورنر کی طرف سے نتھیاگلی میں گورنر ہائوس اور سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال کا الزام بھی لگایا۔
ساسیات کوہسار کا سال رواں کا سب سے بڑا واقعہ گورنر خیبر پختونخوا کے بھائی اور ایم پی اے سردار فرید خان کا 
عدالتی ٹرائل تھا، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے کاغذات میں یونین کونسل بوئی کی اراضی کا اندراج نہیں کیا تھا تاہم ان کا موقف تھا کہ وہ اراضی خاندان کی مشترکہ ملکیت ہے اور میں نے اس کے حصص فروخت کر دئے ہیں اس لئے اس 
اراضی سے ان کا کوئی تعلق یا واسطہ نہیں، ان کے خلاف یہ رٹ پٹیشن ۲۳دسمبر کو خارج کر دی گئی۔

یونین کونسل ملکوٹ سے تعلق رکھنےوالے گورنر خیبر پختونخو سردار مہتاب احمد خان کو صوبے میں شدید مخالفت کا سامنا رہا ہے، سیاسی طور پر نون لیگ کی صوبائی قیادت پیر صابر شاہ اور امیر مقام نے یہاں تک کہا تھا کہ وہ گورنر ہائوس کے سامنے دھرنا دینگے کیونکہ ان کے حقوق غصب کئے جا رہے ہیں، دوسری طرف عمران خان کی تحریک کی تحریک سے متاثرہ ایک طالب علم نے پشاور یونیورسٹی کے کنووکیشن میں کھڑے ہو کر گو نواز گو کا سردار مہتاب کے سامنے نعرہ لگا دیااور ان سے ایم فل کی ڈگری لینے سے بھی انکار کر دیا۔

عمران خان اور طاہر القادری کے مشترکہ دھرنےمیں یونین کونسل علیوٹ، مری سے تعلق رکھنے والے رحیق احمد عباسی ایک قدآور سیاسی شخصیت کے طور پر نمایاں ہو کر ابھرے اور میڈیا میں بھر پور کوریج حاصل کی۔

سابق ناظم مری سردار سلیم خان قاف لیگ کو چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے مگر اس کے ساتھ ساتھ عمران خان نے مری کے صداقت عباسی کے سیاسی مستقبل پر بھی سیاہی پھیر دی۔

تحصیل مری کے ایم این اے شاہد خاقان عباسی اور ایم پی اے راجہ اشفاق سرور جو وفاقی اور پنجاب کابینہ کے با اختیار وزیر بھی ہیں کے باوجود ہر سال کی طرح اس بار دسمبر کی آخری رات تک حکومت پنجاب کی طرف سے سوختنی لکڑی فراہم نہیں کی گئی تھی، اسی طرح ۲۷ روپے کمی کے باوجود ٹرانسپورٹ مافیا نے ابھی تک کرائے کم نہی کئے ہیں اور دونوں ہاتھوں سے مسافروں کو لوٹ رہے ہیں۔
تعلیم و تدریس و تحقیق
گورنمنٹ ہائی سکول بیروٹ کے وائس پرنسپل فہیم احمد علوی اپنی پہلی اہلیہ سیدہ سفینہ شاہ کی وفات کے بعد اپریل میں دوبارہ باسیاں کے مولوی مخدوم قریشی کی عالمہ اور حافظ قرآن صاحبزادی سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے مگر 
صرف تین ماہ بعد ہی اس جوڑے کو علیحد گی کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔

انیس سو تریسٹھ میں اس وقت کے چیئرمین یونین کونسل بکوٹ بیروٹ سردار محمد عرفان خان مرحوم کی تجویز پر کراچی سے خیبر تک چندہ کرنے اور بیروٹ کے علمی حلقوں کی اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر اور دوہزار پانچ کے قیامت خیز زلزلہ میں شہید ہونے والی بیروٹ کی اس علمی درسگاہ کی تعمیر نو، نو سال گزرنے کے باوجود دوبارہ نہیں ہو سکی، اس وقت منظر پر موجود ساری سیاسی ، قانونی، صحافتی اور سماجی قیادت اسی سکول کی تیار کردہ ہے، مگر بیروٹ کے ذمہ داروں کی سیاسی مصلحتوں اور مد ہوشی کے باعث اب اس سکول کے دروازے، کھڑکیاں اور دیواروں کے پتھر بھی غائب ہوتے جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس مجرمانہ مصلحت کوشی اور لاوارثی کا ذمہ دار کون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟  کیا اس تعلیمی درسگاہ کی اپنے بیٹوں سے اس بیوفائی پر ہمارے ان بزرگوں کی روحیں بھی لا مکاں میں نہیں تڑپ رہی ہوں گی جنہوں نے ہمیں یہ مادر علمی دی اور ہم نے بیچ بازار کے اسے لاوارث چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا نہیں پورا سوچئے۔
وائے ناکامی؟ متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
راولپنڈی بورڈ کے تحت ہونے والے میٹرک امتحانات میں سرکل بکوٹ کی طالبہ نوال نوید عباسی نے نو سو اکیانوے نمبر لیکر سرکل بکوٹ کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دئے جبکہ کوہسار کی اسی بورڈ سے منسلک تاریخی و قدیم درسگاہ گورنمنٹ ہائی سکول اوسیاہ (مردانہ و زنانہ) کی تعلیمی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی،  
مقامی تنظیمیں اور این جی اوز
شباب ملی گلیات کی تنظیم نو مکمل ہو گئی ہے جس کے تحت سردار عاصم صدر، سردار مبشر جنرل سیکرٹری اور ظاہر احمد سینئر نائب صدر منتخب ہو گئے ہیں۔

ایبٹ آباد کی معروف سماجی شخصیت ملک حفیظ الرحمان اعوان کو تنظیم الاعوان ہزارہ ڈویژن کا صدر منتخب کر لیاگیا۔
تعمیرو ترقی

سرکل بکوٹ کی اکثر رابطہ سڑکیں مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی ہیں، اس سلسلے میں ایم این  اے ڈاکٹر اظہر جدون اور ایم پی اے فرید خان مکمل طور پر بے بس نظر آ رہے ہیں، ساون کی حالیہ بارشوں میں یو سی بکوٹ سے آگے سرکل بکوٹ کا رابطہ بیرونیدنیا سے مکمل طور پر کٹا رہا۔

پی کے پنتالیس کے سابق امیدوار علی اصغر خان کی مشاورت سے سال کے آخری ہفتے میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے سرکل بکوٹ کے ترقیاتی کاموں  کیلئے اٹھارہ کروڑ روپے جاری کئے ہیں۔

اے سی مری کی مونچھوں کے نیچے لارنس کالج روڈ پر ترقیاتی کام بے انتہا سست روی کا شکار ہیں جس کی وجہ سے 
سیاحون سمیت مری شہر اور گرد و نواح کی مقامی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔
مری بروری گھوڑا گلی میں ایک سوزوکی وین سال کے آخری روز گہری کھائی میں جا گری جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق اور ایک بچے سمیت چار افراد زخمی ہوگئے۔

پٹن کلاں میں پندرہ جنوری کو جیپ کو حادثہ،ڈرائیور جاں بحق اور بیس خواتین زخمیہو گئیں، تمام کا تعلق سرکل بکوٹ سے تھا،
سرکل بکوٹ کی یونین کونسل بوئی سے تعلق رکھنے والے ایک نو بیاہتا جوڑے کو  اکتوبر کے وسط میں ایبٹ آباد میں قتل کر کے ان کی لاشیں ٹھنڈیانی میں پھینک  دی گئیں جنہیں بکوٹ پولیس نے بر آمد کر کے ورثا کے حوالے کیا،اسی طرح کچھ  بد خواہوں کے قابل مذمت اقدامات کی وجہ سے بیروٹ اور نمبل کی یونین کونسلوں میں دو دو گھروں کو بھی نذر آتش کر دیا گیا ,یہ قبائلی ٹینشن اگست سے نومبر تک عروج پر رہی۔
جرائم، قانون و انصاف
زشتہ سال جنوری کے پہلے ہفتے میں ہی بکوٹ پولیس نے ایک بیل چور سمیت دو لٹیروں کو گرفتار کر لیا، ان میں سے ایک چور ناصر محمود کا تعلق پھگواڑی اور دوسرے چنگیز کا نکر کھن بکوٹ سے تھا۔

اسی ماہ مری پولیس نے بھی موضع ہل کھن کلاں کے ایک مبینہ ڈاکو اشتیاق ولد ملک امان کو پولیس مقابلے میں شدید زخمیکر دیا جو بعد ازاں ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ یہ بکوٹ پولیس کو بھی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھا۔

اسی ماہ کے پہلے ہفتے میں لوئر بکوٹ ویلفیئر سوسائیٹی کی ایک ایبولینس کو نا معلوم ملزموں نے نذر آتش کر دیا،ان ملزموں کا بکوٹ پولیسآج تک سراغ نہیں لگا سکی۔
نومبر میں نیو کوہالہ سے متصل کنیر پل میں دو گروہوں کے درمیان تصادم ہوا جس میں آتشیں اسلحہ اور پتھروں کا بے 
دریغ استعمال کیا گیا تا ہم بکوٹ پولیس کی مداخلت سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا
مئی میں سرکل بکوٹ سے تعلق رکھنے والے روزنامہ جنگ کے سینئر صحافی عبیداللہ علوی کو  تیران یونیورسٹی مقابلہ مقالہ نگاری میں دوسرے انعام اور کیش پرائز سے نوازہ گیا
ِِRead more  and Read article 
 روزنامہ نوائے وقت کے سینئر صحافی اور سرکل بکوٹ میں بیورو چیف  نوید اکرم عباسی  کو ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں چیف  کنزرویٹو وائلڈ لائف پشاور سید مبارک علی شاہ نے گرین جرنلسٹس ایوارڈ اور کیش پرائز سے نوازا 
مری کے سینئر صحافی عابد عباسی کے چھوٹے بھائی کو لینڈ مافیا نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

کوہسار کا دس سالہ ہفت روزہ ہل نیوز نے عارضی بندش کے بعد دوبارہ اشاعت کا آغاز کیا۔ جو اس کے چیف ایڈیٹر اے ڈیعباسی کی کاوشوں سے دن دگنی رات چگنی ترقی کی منزلوں کی طرف گامزن ہے۔

 اے ڈی عباسی نے الیکٹرونک میڈیا روز ٹی وی بھی جوائن کر لیا، وہ اب اینکر پرسن کے طور پر پروگرام بھی کر رہے ہیں۔

ہفت روزہ ہل سٹار کی نومبر تک پالیسی یک طرفہ ہی رہی، اس کے ساتھ ساتھ ایڈیٹر اور پبلشر سلیم برلاس آف دہلہ نے روزنامہ الشرق اسلام آباد کی زمہ داریاں بھی سنبھالیں جو نومبر تک جاری رہیں، 

سال کے دوسرے ماہ ایک آن لائن اخبار طلوع نیوز بھی نیٹ پر آگیا جو کوہسار کی حقیقی نمائندگی کا حق ادا کر رہا ہے۔

اسی سال دلولہ نیوز کے نام سے ایک فیس بک بھی لانچ کی گئی جو مقامی کے بجائے نیشنل اور انٹرنیشنل نیوز کو فوکس کر رہی ہے۔

گورنر سردار مہتاب احمد خان سمیت کوہسار سرکل بکوٹ، مری اور گلیات کی اعلیٰ شخصیات، وکلا، سیاستدانوں ، اساتذہ کرام، صحافی حضرات اور روحانی شخصیات کی جعلی فیس بک بھی بنائی گیئیں۔

بیروٹ سے تعلق رکھنے والے سرکل بکوٹ کے سیرت ایوارڈ یافتہ دانشور اور درجن بھر کتابوں کے مصنف ملک محبت  
حسین اعوان نے پاکستان کے تمام قبائل کی نمائندگی کرنے والے ماہنامہ شعوب کا کراچی سے ڈیکلریشن حاصل کر لیا، پہلا شمارہ دو ہزار پندرہ کی جنوری میں آ رہا ہے۔
سابق امیدوار صوبائی اسمبلی رحمان عباسی نے ہفت روزہ پیپلز پاور کا ڈیکلریشن بھی اسلام آباد سے حاصل کیا اور اب اس کی اشاعت کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ اسکے ایڈیٹر معروف صحافی طارق نواز عباسی ہوں گے۔
معروف بزنس مین اور براڈکاسٹر راجہ مبین الرحمان عباسی نے ہفت روزہ آئینہ جہاں کے نام سے ایک اخبار جاری کرنا چاہا مگر نا معلوم وجوہات کی بنا پر انہوں نے اس کا ارادہ ملتوی کر دیا۔

بکوٹ اور ایوبیہ سے تعلق رکھنے والے صحافی شمس عباسی اور عاطف خالد ستی اس سال والد کے منصب پر فائز ہوئے مگر عاطف خالد ستی کا نومولود بیٹا دس روز بعد اللہ کو پیارہ ہو گیا۔

مری کے صحافی سدہیر عباسی کی والدہ محترمہ اللہ کو پیاری ہو گئیں جبکہ راوزنامہ کائنات اور اور روزنامہ امت کراچی کے ایڈیٹر فدا عباسی اور سجاد عباسی کے ولد گرامی عزیز خان بھی انتقال کر گئے جنہیں کوئاں، کہو شرقی بیروٹ میں سپرد  خاک کر دیا گیا۔

مری اور اوسیا میں پانچھ کیبل آپریٹر نے کام شروع کر دیا۔

مری اور نتھیا گلی میں لاہور کی ایک ہی کمپنی کو ایف ایم ریڈیو سٹیشن کھولنے کا لائسنس مل گیا، نشریات اپریل تک متوقع ہیں۔

سال دوہزار پندرہ کے پہلے روز ہی ایم پی اے سردار فرید خان نے اسلام آباد میں سرکل بکوٹ کے ان مٹھی بھر صحافیوں کے اعزاز میں ظہرانہ دیا جو کوہسار کے بڑے اور سب سے زیادہ پڑھے جانیوالے ہفت روزہ ہل نیوز، ہفت روزہ قومی تشخص اور اب ہفت روزہ پیپلز پاور کی وجہ سے خوفزدہ ہیں، ذرائع کے مطابق سردار فرید خان سے یہ بھی کہا گیا کہ ان کی سچ ٹی وی پر بھرپور کوریج بھی کی جائے گی اور انہیں سرکل بکوٹ میں باوجود انڈر میٹرک ہونے کے ہیرو بنا کر پیش 
کیا جائیگا۔
>Read More<
وہ جو آج ہم میں نہیں

 حضرت پیر فقیراللہ بکوٹیؒ کے پوتے، پیر سعید انور عرف چن پیر کے چھوٹے بھائی اور آستانہ عالیہ بکوٹ شریف کے سجادہ نشین صاحبزادہ پیر محمد اظہر بکوٹی کے فرسٹ کزن صاحبزادہ پیر محمد عبدالماجد بکوٹی دسمبر کے آخری ہفتے میں انتقال کر گئے، ان کی عمر ساٹھ سال تھی اور مقامی سکول میں ٹیچرتھے۔
(جاری ہے)